Facebook Facebook Facebook Facebook

Categories

سندھ اسمبلی کے 24 ویں اجلاس کی روداد

Posted by
Published: May 5, 2016 04:50 pm

سندھ کے صوبائی ایوان ( اسمبلی ) کے 24 ویں اجلاس میں ایوان نے 13 قانونی مسودات اور نو قراردادوں کی منظوری دی ۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن )کی براہ راست مشاہدہ کاری پر مبنی24 ویں اجلاس کی روداد کے مطابق اجلاس کے دوران ایجنڈے پر مجموعی طور پر 16 قانونی مسودات لائے گئے جن میں سے ایوان نے 13 قانونی مسودات کی منظوری دی ۔ منظور کئے گئے مسودات میں سے سات میں نئی قانون سازی کی گئی جبکہ چھ قانونی مسودات پہلے سے موجود قانون سازی میں ترامیم کیلئے تھے ۔  ایک نجی قانونی مسودے سمیت دو قانونی مسودات سوسا ئٹیزرجسٹریشن ( سندھ ترمیمی) بل 2015 اور ملیر ترقیاتی ادارہ (ترمیمی) بل 2016 کو زیر غور نہ لایا گیا  جبکہ ایک قانونی مسودے لیاری ترقیاتی ادارہ ( ترمیمی) بل 2016 کو ایوان نے  مسترد کر دیا ۔

سترہ نشستوں پر مشتمل 24 واں اجلاس 21 مارچ کو شروع اور 03 مئی 2016کو ختم ہوا ۔ اجلاس کی تمام نشستوں میں اراکین کی حاضری کی شرح کم رہی ۔ ہر نشست کا ٓاغازاوسطا 32 ( 20فیصد) اوراختتام 53( 33 فیصد ) اراکین کی موجودگی میں ہوا ۔ اقلیتی اراکین کی فی نشست حاضری کی اوسط تین رہی ۔ ہر نشست مقررہ وقت کی بجائے اوسطا ایک گھنٹہ 05 منٹ تاخیر کیساتھ شروع ہوئی اور 02 گھنٹے 28منٹ تک جاری رہی ۔ سب سے طویل نشست 26 اپریل کو منعقد ہوئی جو 04 گھنٹے 23 منٹ دورانیئے کی تھی جبکہ مختصر ترین نشست کا دورانیہ صرف دو منٹ رہا اور یہ نشست 25 مارچ 2016 کو منعقد ہوئی تھی ۔

سپیکر نے 16 نشستوں میں شرکت کی اور اجلاس کے مجموعی وقت کے 70 فیصد تک کیلئے صدارت کے فرائض نبھائے ۔ ڈپٹی سپیکر نے آٹھ نشستوں میں شرکت کی اور 21 فیصد وقت ااجلاس کی صدارت پر صرف کیا جبکہ بقیہ وقت  کی صدارت کے فرائض چیئر پرسنوں کے پینل کے ایک رکن کے حصے میں آئے ۔

  قائد ایوان ( وزیراعلیٰ ) نے سات نشستوں میں 18 فیصد وقت جبکہ قائد حزب اختلاف نے 08 نشستوں میں 26 فیصد وقت ایوان میں گزارا۔ پارلیمانی قائدین میں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی قائد نے 15 نشستوں ، مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی قائد نے 14 ، پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ فنکشنل کے پارلیمانی قائدین نے چودہ، چودہ نشستوں میں شرکت کی ۔

ایوان نے ایجنڈے پر موجود 21 میں سے 09 قراردادوں کی منظوری دی ۔ ان میں سے چار قراردادیں گورننس کے مسائل ، دو ، دو شعبہ تعلیم ، تعزیت اور خراج عقیدت پیش کرنے اور ایک قرارداد توانائی کے شعبے سےمتعلق تھی ۔

اراکین نے اجلاس کے دوران مجموعی طور پر 39 توجہ دلاؤ نوٹس اٹھائے جن میں سے 32 کے جوابات متعلقہ وزارتوں نے دیئے جبکہ سات توجہ دلاؤ نوٹسوں کو زیر غور نہ لایا گیا ۔ جن توجہ دلاؤ نوٹسوں کا جواب دیا گیا ان میں سے 12 مقامی حکومتوں سے متعلق تھے ، صحت اور داخلہ سے متعلق پانچ پانچ ، تعلیم اور ادب سے متعلق تین تین جبکہ ایکسائز اور ٹیکسیشن، خزانہ ،خدمات ، جنرل ایڈمنسٹریشن ، ٹرانسپورٹ ، جنگلی حیات اور ورکس و سروسز ڈیپارٹمنٹ  سے متعلق ایک ایک نوٹس کا جواب دیا گیا ۔

24 ویں اجلاس کے دوران اراکین نے مختلف محکموں سے متعلق 68 سوالات اٹھائے جن میں سے 46 نشانذدہ سوالات کے جوابات دیئے گئے  جبکہ بقیہ 22 سوالات محرکین کی عدم موجودگی کے باعث زیر غور نہ آئے ۔اراکین نے دیئے گئے جوابات کی مزید وضاحت کیلئے 219 ضمنی سوالات بھی دریافت کئے ۔

اجلاس کے دوران جن اراکین نے سوالات اٹھائے انکی جماعتی وابستگی کے اعتبار سے مشاہدے میں آیا کہ مسلم لیگ فنکشنل کے اراکین نے سب سے زیادہ 28 سوالات اٹھائے ۔ دوسرے نمبر پر متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین رہے جنہوں نے 26 سوالات اٹھائے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے 08، پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے 06 سوالات اٹھائے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے اراکین نےکوئی سوال دریافت نہ کیا ۔

اراکین نے اجلاس کے دوران مجموعی طور پر 136 نکات اعتراض اٹھائے جن پر اجلاس کے مجموعی وقت میں سے 172 منٹ صرف ہوئے ۔ سب سے زیادہ 23 نکات ہائے اعتراض چوتھی نشست کے دوران اٹھائے گئے اور ان پر 23 منٹ ہی صرف ہوئے جبکہ سب سے کم  یعنی ایک نکتہاعتراض نویں نشست میں مشاہدہ کیاگیااور اس پر صرف ایک منٹ صرف ہوا ۔

ایوان میں 08 رپورٹس پیش کی گئیں جبکہ چار رپورٹس کے پیش کرنے کے وقت میں توسیع کی گئی ۔ ایک رپورٹ جسکا موضوع صوبائی محکموں کے حسابات کی درستگی تھا کو مزید غورو خوض کیلئے متعلقہ مجلس کے سپرد کیا گیا جبکہ ایجنڈے پر موجودقانونی مسودات سے متعلق دو رپورٹس کو اجلاس کے دوران زیر غور نہ لایا گیا ۔

ایوان میں پیش کی گئی رپورٹس میں قانون سازی سے متعلق مجالس ہائے قائمہ کی چار رپورٹس، 2013 سے 2016 کے درمیان ایوان کی طرف سے منظور کی گئی قراردادوں پر مختلف صوبائی محکموں کی طرف سے عملدرآمد سے متعلق رپورٹ اور رواں مالی سال کے دوران موجودہ صوبائی محصولات کی وصولی ، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اور اخراجات کی رپورٹ شامل تھیں ۔

اجلاس کے دوران ایوان میں احتجاج کے پانچ اور واک آؤٹ کے تین واقعات مشاہدے میں آئے جن پر اجلاس کے مجموعی وقت میں سے 77 منٹ صرف ہوئے ۔ آخری دو نشستوکے دوران متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے احتجاج اور واک آؤٹ کے متعدد واقعات مشاہدے میں آئے جنک باعث چیئر کو قبل از وقت نشستیں ملتوی کرنی پڑیں ۔

اجلاس کے دورا اراکین نے چھ تحاریک استحقاق پیش کیں جن میں سے ایک مسترد ہوئی جبکہ ایک تحریک کو متعلقہ مجلس قائمہ کے سپرد کیا گیا ۔ بقیہ چار تحاریک استحقاق میں سے دو کو محرکین نے واپس لے لیا جبکہ دو کو زیر غور نہ لایا گیا ۔

Posted by on May 5, 2016. Filed under سندھ اسمبلی. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0. You can leave a response or trackback to this entry