Facebook Facebook Facebook Facebook

Categories

سندھ اسمبلی : ہیپا ٹائٹس سی کے انجکشن کی خریداری میں گھپلا نہیں ہوا،وزیر صحت

Posted by
Published: November 14, 2016 07:52 pm

اسلام آباد :سندھ کے صوبائی وزیر صحت سکندر علی میندھرو نے کہا ہے کہ  ہیپا ٹائٹس سی کے ٹیکے انٹر فیرون 7 کی خریداری میں کروڑوں روپے کی  بے ضابطگی کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ، دوائی قواعد کے مطابق اور مارکیٹ میں رائج قیمت پر درست طریق کار کے تحت خریدی گئی ۔ یہ بات انہوں نے سندھ اسمبلی کے 28  ویں اجلاس کی پہلی نشست میں ایک سوال کے جواب میں کہی ۔ رکن صوبائی اسمبلی مس نصرت سحر عباسی نے نشانذدہ سوال نمبر 2823  میں وزیر صحت سے دریافت کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ صوبائی محکمہ صحت نے ہیپا ٹائٹس سی کے ٹیکے انٹر فیرون 7 کے 18 لاکھ 77 ہزارانجکشن مارکیٹ میں رائج قیمت 90 روپے کی بجائے 155 روپے میں خریدے اور کروڑوں کی خرد برد کی ۔ صوبائی وزیر صحت نے سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ واقعی یہ دوائی 155 روپے میں  خریدی گئی تاہم اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ دوائی مائع اورسفوف ( پوڈر) کی صورت میں موجود ہے ۔ مائع صورت میں انٹر فیرون 7 کی قیمت مارکیٹ میں 90 روپے ہے جبکہ سفوف کی صورت میں انٹر فیرون 7 انجکشن 155 روپے میں ملتا ہے ۔ وزیر صحت نے کہا کہ ادارے کو مائع صورت میں ان ٹیکوں کی خریداری میں مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ مائع انٹر فیرون 7 کواگر دو سے آٹھ سنٹی گریڈ پر سٹور نہ کیا جائے تو اسکی افادیت ختم ہو جاتی ہے ۔ لہٰذا محکمے کے فنی ماہرین نے مائع انٹر فیرون کی سٹوریج کے عمل کو مشکل قرار دیا اور رائے دی کہ لوڈ شیڈنگ اور وقتا فوقتا بجلی غائب ہونے کے عمل کے باعث مائع انجکشن خراب ہو سکتے ہیں۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ  اس مسلے سے بچنے کیلئے محکمے نے 90 روپے کا مائع انٹر فیرون 7 انجکشن خریدنے کی بجائے سفوف کی صورت میں دستیاب انٹر فیرون 7 ایک سو پچپن روپےمیں خریدنے کا فیصلہ کیا۔اس لئے یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ خریداری درست طریق کار اور مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہی خریدی گئی ۔

Posted by on November 14, 2016. Filed under سندھ اسمبلی. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0. You can leave a response or trackback to this entry