Facebook Facebook Facebook Facebook

Categories

سکور کارڈ : طارق بشیر چیمہ رکن قومی اسمبلی

Posted by
Published: November 15, 2016 05:57 pm

محترم  طارق بشیر چیمہ کا تعلق بہاولپور سے ہے اور آپ بہاولپور کے ضلع ناظم کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں ۔ انکے گھرانے کا شمار بھی سیاسی طور پر متحرک خاندانوں میں ہوتا ہے ۔ آپکے بھائی طاہر بشیر چیمہ بھی ضلع بھاولنگر سے ایوان زیریں کے رکن ہیں ۔طاہر بشیر چیمہ عام انتخابات 2013 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ۔  طارق بشیر چیمہ عام انتخابات 2013 میں پاکستان مسلم لیگ (قائداعظم) کی ٹکٹ پر  جیتنے والے دو امیدواروں میں سے ایک ہیں ۔طارق بشیر چیمہ اس وقت پانی و بجلی پر قائم مجلس قائمہ کے رکن کے طور پر بھی فرائض نبھا رہے ہیں ۔

طارق بشیر چیمہ سیاستدان ہونے کیساتھ ساتھ ایک  متحرک سماجی کارکن کی حیثیت سے بھی پہچان رکھتے ہیں ۔ انتخابی حلقے میں لوگ انہیں ایسے سیاستدان کے طور پر جانتے ہیں جو ہمہ وقت اپنے حلقے کے لوگوں کیساتھ رابطہ رکھتے ہیں ۔

طارق بشیر چیمہ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز پیپلز پارٹی سے کیا تاہم بعد ازاں یہ چوہدری شجاعت کی زیر قیادت پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہوئے ۔

حاضری

ایوان کے اجلاسوں میں باقاعدگی کیساتھ شرکت  اراکین کی  بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔یہی وجہ ہے ایوان زیریں کے اجلاسوں کی مشاہدہ کاری کے عمل میں اراکین کی حاضری کو خاص اہمیت دی گئی ہے ۔

 14 ویں قومی اسمبلی  کے ابتک 36جبکہ پارلیمان کے 8مشترکہ اجلاسں  منعقد ہوئے ۔ مجموعی طور پر منعقدہ  یہ 44اجلاس353نشستوں پر محیط تھے ۔ طارق بشیرچیمہ نے ان میں سے 141 نشستوں  میں شرکت کی۔177 میں غیر حاضر رہے جبکہ 57 نشستوں میں رخصت کی درخواست بھیجی ۔

وقفہ سوالات

وقفہ سوالات پارلیمان میں عوامی نمائندگی اور حکومت سے جوابدہی کا ایک موثر ذریعہ ہے ۔ منتخب نمائندے اس ذریعہ کو اختیار کرتے ہوئے  مختلف حکومتی اداروں اور امور سے متعلق سوالات اٹھاتے ہیں ۔ حکومتی اداروں ، محکموں اور وزارتوں کو ایوان کے روبرو جوابدہ بنایا جاتا ہے ۔

طارق بشیر چیمہ نے اس عرصے کے دوران  ایوان میں کوئی  نشانذدہ یا غیر نشانذدہ سوال نہ اٹھایا ۔

قانون سازی کی کارروائی میں شرکت

طارق بشیر چیمہ نے اس عرصے کے دوران کسی بھی نوعیت  کی قانون سازی کی کارروائی میں شرکت نہیں کی ۔

ایوان کی کارروائی میں شرکت

اس سے مراد ہے کہ کسی رکن نے ایوان کے منعقدہ اجلاسوں کی مختلف نشستوں میں حاضر ہونے کے علاوہ نظام کار میں امور شامل کرائے ، شامل امور پر اگر بحث ہوئی تو اس میں حصہ لیا یا امور شامل بھی کرائے اور ان امور پر منعقدہ بحث میں حصہ بھی لیا ۔ جناب طارق بشیر کا سکور اس لحاظ بھی صفر رہا ۔

توجہ دلاؤ نوٹس

توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے اراکین روامی اہمیت کے معاملات کی طرف حکومت اور ایوان کی توھہ مبذول کراتے ہین ۔ جناب طارق بشیر چیمہ نے تاہم اس عرصے کے دوران کوئی توجہ دلاؤ نوٹس بھی نہیں اٹھایا ۔

قراردادیں

قراردادوں کے ذریعے پارلیمنٹ یا اس کے ایوان اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، سفارشات کرتے ہیں یا کسی اہم معاملے پر کوئی پیغام دیتے ہیں، مثلاً کسی واقعہ یا اقدام کی مذمت کی جاتی ہے، حکومت سے کارروائی کی درخواست کی جاتی ہے وغیرہ۔ وزرا یا نجی ارکان بھی قراردادیں پیش کر سکتے ہیں۔

 محترم طارق بشیر چیمہ نے اس عرصے کے دوران صرف دو قراردادیں نظام کار میں شامل کرائیں ۔ ان قراردادوں کو ایوان منظور بھی کیا ۔

پہلی قرارداد چھٹے اجلاس کی چوتھی نشست میں پیش کی گئی ۔ اس نجی قرارداد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ پنجاب اور سندھ میں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں غیر ضروری جلد بازی نہ کرے ۔ انتخابات کو ہر لحاظ سے آزادانہ ، منصفانہ ، پر امن اور شفاف بنانے کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں ۔ نجی پرنٹنگ پریس سے بیلٹ پیپر نہ چھپوائے جائیں اس سے انتخابات کی شفافیت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے ۔ ایوان  نے اس قرارداد کی متفقہ منظوری دی

دوسری قرارداد  35 ویں اجلاس کی چوتھی نشست میں پیش کی گئی ۔ اس  مشترکہ قرارداد میں ایوان نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما  میر قاسم  کو  پھانسی دینے کی مزمت کی ۔ +

نکات ہائے اعتراض

نکتہ ہائے اعتراض کی صورت میں ارکان کو اہم سیاسی موضوعات اور اپنے حلقے کے مسائل اجاگر کرنے کے لئے لمبی لمبی تقریریں کرنے کا موقع ملتا ہے۔ قومی اسمبلی کے موجودہ فریم ورک میں چونکہ ارکان کو اپنے مسائل سامنے لانے کا اور کوئی راستہ مہیا نہیں کیا گیا اسی لئے وہ اس مقصد کے لئے نکتہ ہائے اعتراض کو استعمال کرتے ہیں۔ ان تقریروں کو اسمبلی کی کارکردگی میں شمار نہیں کیا جاتا ۔طارق بشیر چیمہ اس عرصے کے دوران کوئی نکتہ اعتراض نہیں اٹھایا ۔

تحاریک زیر ضابطہ ٍ259

ایوان زیریں کے قواعد و ضوابط ہائے  کار 2007 کے ضابطہ 259  کےتحت کوئی بھی وزیر یا رکن کسی پالیسی ، پیدا شدہ صورتحال یا کسی بھی دوسرے معاملے کو ایوان زیر غور لانے کیلئے تحریک پیش کرنیکا نوٹس دے سکتا ہے اور سپیکر سے گزارش کر سکتا ہے کہ وہ اس تحریک کو ایوان میں بحث کیلئے پیش کرنیکی اجازت دے ۔ محترم طارق بشیر چیمہنے اس عرصے کے دوران کوئی تحریک زیر ضابطہ 259 پیش نہیں کی ۔

تحاریک زیر ضابطہ 18

ایوان زیریں کے قواعد و ضوابط ہائے  کار 2007 کے ضابطہ 18 کے  تحت کوئی بھی رکن کسی  بھی ایسے معاملے پر جو نکتہ اعتراض نہ ہو اور بنیادی طور پر حکومت سے متعلقہ ہو اور اس میں ایک سے زائد معاملات شامل نہ ہوں   کو ایوان  کےزیر غور لانے کیلئے تحریک پیش کرنیکا نوٹس دے سکتا ہے اور  اورسپیکرسے گزارش کر سکتا ہے کہ وہ اس تحریک کو ایوان میں بحث کیلئے پیش کرنیکی اجازت دے ۔

طارق بشیر چیمہ کا سکور کارڈ اس حوالے بھی خالی ہے ، یعنی اس عرصے کے دوران انہوں اس نوعیت کی کوئی تحریک پیش نہیں کی ۔

عوامی اہمیت کا معاملہ

ایوان کے طریق کار وکارروائی کے ضابطہ 87 کے تحت سپیکر آخری توجہ دلاؤنوٹس پر بحث کے بعد نجی ارکان کے دن پر نشست کا نصف گھنٹہ فوری عوامی اہمیت کے امور پر بحث کے لئے  مختص کر سکتا ہے۔محترم طارق بشیر چیمہ نے اس عرصے کے دوران اس پارلیمانی مداخلت کو بھی استعمال نہیں کیا ۔

رپورٹ

فاضل رکن نے اس عرصے کے دورا ن بطور رکن مجلس قائمہ پانی و بجلی ایوان میں مختلف موضوعات پر مجلس کی 16 رپورٹیں ایوان میں پیش کیں ۔

Posted by on November 15, 2016. Filed under سکور کارڈ. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0. You can leave a response or trackback to this entry