Facebook Facebook Facebook Facebook

Categories

قومی اسمبلی میں کم حاضری کا رحجان برقرار

Posted by
Published: August 12, 2015 07:39 pm

national assembly

اسلامآباد: 12اگست 2015 : قومی اسمبلی کے 24 ویں اجلاس کی 12 ویں نشست بھی اراکین کی کم تعداد کیساتھ شروع اور ختم ہوا ۔ کورم واضح طور پر کم دکھائی دینے کے باوجود کسی بھی ممبرنے اسکی نشاندہی کرنا مناسب نہ سمجھا ۔

وزیراعظم اس نشست میں بھی شریک نہ ہوئے تاہم قائد حزب اختلاف 25 منٹ تک اجلاس میں شریک رہے ۔ ایوان نے پاکستان مسلم لیگ ( ن) کی ایک خاتون کی طرف سے جمع کرائے گئے چار ققانونی مسودات ، آئینی ترمیمی بل 2015 ( برائے ترمیم کئے جانے شق 11 ) ، پاکستان پینل کوڈ ( ترمیمی ) بل 2015 ، فیکٹریز ۰ ترمیمی ) بل 2015 اور ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ( ترمیمی ) بل 2015  کو محرک کی عدم موجودگی کے باعث موخر کر دیا گیا ۔ایوان نے ایجنڈے پر موجود چار قراردادوں جو وفاقی ملازمین کو شادی گرانٹ کی فراہمی ، گرمیوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی کرنے ، ایل این جی کی قیمت اور سمگلنگ کے خاتمے سے متعلق تھیں کو نہ اٹھایا ۔

نشست کی کارروائی کے دوران قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط کار و استحقاق نے تین قانون سازوں کی طرف سے اٹھائے گئے استحقاقی سوالات سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی جبکہ ایوان نےقواعد و ضوابط کار کے ضابطہ 192 میں ترمیم کے معاملے پر غور نہ کیا ۔

ایوان نے ضابطہ 259 کے تحت پیش کی گئی چار تحاریک کو محرکین کی عدم موجودگی کے باعث موخر کردیا ۔ یہ تحاریک سرحد پار سے دہشت گردی کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے ، اسلام ٓاباد کے نئے ائرپورٹ کی تعمیر میں تاخیر ، کالا باغ ڈیم کی عدم تعمیر اور ریلوے کی زمین و دیگر وسائل کے عدم استعمال سے متعلق تھیں ۔  

کارکردگی

نشست کے دوران دو قانونی مسودات

۔ آئینی ( ترمیمی ) بل 2015

۔ مفت اور لازمی تعلیم کا حق ( ترمیمی ) بل 2015

ایوان میں متعارف کرائے گئے۔ ان قانونی مسودات کو ایوان نے مزید غور کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا ۔

۔ ایوان نے دو قراردادوں کی منظوری دی ، پہلی قرارداد میں بجلی کی چوری کی روک تھام جبکہ دوسری ضمنی قرارداد میں ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ۔

۔ متحدہ قومی موومنٹ کے ایک رکن کی طرف سے پیش کی گئی ایک اور قرارداد پر بھی بحث کی گئی جس میں پانی کی قلت پر قابو پانے کیلئے ملک میں فوری طور پر پانی کے ذخائر تعمیر کیلئے فوری اقدامات اٹھانے پر زور دیا گیا ۔    

نمائندگی و جوابدہی

۔ ایوان میں دو توجہ دلاو نوٹس اٹھائے گئے

۔ پہلے نوٹس میں نجی حج ٹور آپریٹرز کی طرف سے بھاری معاوضے وصول کرنے کے باوجود ضروری سہولیات مہیا نہ کرنے جبکہ دوسرے میں

۔ خواتین قانون سازوں کو ترقیاتی فنڈز کی امتیازی تقسیم سے متعلق توجہ مبذول کرائی گئی تھی

۔ مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سات سینیٹرز نے تحریک زیر ضابطہ 259 اقلیتون پر قومی کمیشن کی تشکیل سے متعلق بحث میں حصہ لیا

نظم و ضبط

۔ نشست کے مجموعی وقت کے 11 منٹ 6 پوائنٹس ٓاف آرڈرز پر صرف ہوئے

شفافیت

ایجنڈے کی نقول تمام مشاہدہ کاروں ، قانون سازوں و دیگر متعلقین کو دستیاب تھیں

 

نشست کے اہم نکات

۔ نشست مقررہ وقت سے 18 منٹ تاخیر کیساتھ شروع ہوئی اور 3 گھنٹے 54 منٹ جاری رہی

۔ سپیکر نے 52 منٹ تک نشست کی صدارت کی ، بقیہ وقت کی کارروائی کی صدارت ڈپٹی سپیکر نے کی

۔ نشست کے ٓاغاز پر ایوان میں موجود اراکین کی تعداد 14 ، اختتام پر 18 جبکہ نشست کے دوران کسی ایک وقت پر موجود اراکین کی زیادہ سے زیادہ تعداد 78 مشاہدہ کی گئی

۔ ایوان کے 10 اقلیتی اراکین میں سے 7 نشست میں شریک ہوئے

۔ 13 اراکین نے رخصت کی درخواست دی

Posted by on August 12, 2015. Filed under قومی اسمبلی. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0. You can leave a response or trackback to this entry