Facebook Facebook Facebook Facebook

Categories

قومی اسمبلی : وزرا کی غیر حاضری ، سرکاری بینچوں کی عدم دلچسپی کیخلاف احتجاج

Posted by
Published: August 13, 2015 02:19 pm

قومی اسمبلی : وزرا کی غیر حاضری ، سرکاری بینچوں کی عدم دلچسپی کیخلاف  احتجاج

پاکستان تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنیکی تحاریک واپس ، متحدہ    کےاستعفے پیش

وزیراعظم صرف ایک نشست میں آئے ،12 قانونی مسودات ، 9 قراردادوں کی منظوری  

اسلام آباد ( 13 اگست 15 ) ایوان زیریں کے 24 ویں اجلاس کی ابتدا پاکستان تحریک انصاف کی نشستوں کو خالی قرار دلوانے کی تحاریک جبکہ اختتام متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین کی طرف سے مستعفی ہونے پر ہوا ۔ آخری نشست میں حزب اختلاف نے ایوان میں وزرا کی مسلسل عدم حاضری اور سرکاری بینچوں کی طرف سے ایوان کی کارروائی میں عدم دلچسپی اور کم تعداد میں شرکت کیخلاف احتجاج بھی ریکارڈ کرایا  تاہم اس سب کے باوجود اجلاس کے دوران 12 قانونی مسودات اور 9 قرادادوں کی منظور ی دی گئی ۔

 27 جولائی سے 13اگست تک 14 نشستوں میں منعقدہ ایوان زیریں ( قومی اسمبلی ) کے اس اجلاس میں بھی اراکین کی کم حاضری اور نشستوں  کا تاخیر سے آغاز کی روایات برقرار رہیں ۔ 342 اراکین پر مشتمل ایوان کےاجلاس کی ہر نشست کے آغاز اور اختتام پر ایوان میں موجود اراکین کی اوسط تعداد بالترتیب 38 اور 52 مشاہدہ کی گئی  ۔اسی طرح اجلاس کی ہر نشست اپنے مقررہ وقت سے اوسطا 32 منٹ تاخیر کیساتھ شروع ہوئی اور 3 گھنٹے 4 منٹ تک جاری رہی ۔ وزیراعظم یعنی قائد ایوان اجلاس کی صرف ایک نشست میں تاہم قائد حزب اختلاف 9 نشستوں میں شریک ہوئے ۔ سپیکر نے 11 نشستوں میں 52 فیصد وقت تک کیلئے جبکہ دپٹی سپیکر نے 13 نشستوں 41 فیصد وقت تک کیلئے ایوان کی کارروائی کی صدارت کے فرائض نبھائے ۔

اجلاس کے دوران مختلف وزارتوں اور محکموں سے مخاطب 21 توجہ دلاو نوٹسز بھی اٹھائے گئے ۔ چھ توجہ دلاو نوٹسز میں کابینہ ڈویژن ، وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ، وزارت خزانہ، وزارت مذہبی امور ، وزارت ماحولیاتی تبدیلی ، وزارت پانی و بجلی  سے متعلق دو ،دو میں جبکہ  وزارت مواصلات ، وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس ، وزارت داخلہ و انسداد منشیات ، وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور وزارت خارجہ کو  ایک ، ایک  توجہ دلاو نوٹس میں مخاطب کیا گیا تاہم ایوان نے سی ڈی اے سے متعلقہ ایک توجہ دلاو نوٹس کو نہ اٹھایا ۔

مجالس ہائے قائمہ کی طرف سے مختلف موضوعات پر27 رپورٹس بھی پیش کی گئیں ۔ جن میں سے 3 رپورٹس مجلس قائمہ برائے قوعدو ضوابط و استحقاقات نے ، مختلف قانونی مسودات سے متعلق 4 رپورٹس ، سنٹرل بورڈ آف سٹیٹ بینک آف پاکستان کی دوسری اور تیسری سہہ ماہی رپورٹس ،7 ویں قومی مالیاتی ایوارڈ پر عمل در آمد سے متعلق مانیٹرنگ رپورٹ شامل ہیں جبکہ صدر کے خطاب کی مصدقہ نقل بھی 14 ویں نشست میں ایوان میں پیش کی گئی ۔

ایوان نے اقلیتوں پر کمیشن سے متعلق 14 تحاریک زیر ضابطہ 259 میں سے صرف ایک پر بحث کی جبکہ خارجہ پالیسی ، وفاقی ملازمین کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ ، پاکستان کرکٹ بورڈ کی کارکردگی ، ماحولیاتی تبدیلیوں ، پاکستان بیت المال کے سویٹ ہومز ، جعلی ادویات کی فروخت ، وفاقی ہسپتالوں میں زنانہ میڈیکل سٹاف کی عدم دستیابی سرحد بار سے دہشت گردی کی سرگرمیوں ، نیو اسلام آباد ائرپورٹ ، کالا باغ ڈیم ، ریلوے کے اثاثوں کے عدم استعمال اور سندھ و ملک کے دیگر علاقوں میں گرمی کے باعث ہلاکتوں جیسے معاملات سے متعلق تحاریک ایوان کی توجہ حاصل نہ کر پائیں ۔

ایوان کے ایجنڈے پر موجود 385 نشانذدہ سوالات میں سے 99 کے جوابات دیئے گئے اراکین نے جوابات کی وضاحت کیلئے 197 ضمنی سوالات بھی دریافت کئے ۔ اجلاس کے دوران اراکین نے 205 پوائنٹس آف آرڈرز اٹھائے جن پر ایوان کے مجموعی وقت کے 661 منٹ صرف ہوئے ۔ وفاقی وزیر برائےبین الصوبائی رابطہ نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس منعقدہ 4 جون 2015 سے صدر کے خطاب پر انہیں خراج تحسین پیش کرنیکی تحریک بھی ایوان میں پیش کی تاہم ایوان  میں اس پر بحث نہ ہو سکی ۔

ایوان نے قواعدو ضوابط ہائے کار کے قاعدہ 192 میں ترمیم کے معاملے پر محرک کی غیر حاضری کے باعث غور نہ کیا جبکہ قواعدوضوابط ہائے کار میں ایک نئے ضابطے 125 اے کو شامل کرنیکی کی تحریک مسترد کردی ۔ اس ضابطے کو شامل کرنیکا مقصد مسودہ ہائے قانون پیش کرتے وقت  بل کے اسلامی تعلیمات  سے متصادم نہ ہونیکی کی یقین دہانی کا  نوٹس لف کرنا تھا ۔

اجلاس کی پہلی تین نشستوں کے دوران متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت العلما اسلام ( ف) کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کو مسلسل 40 دن ایوان سے غیر حاضر رہنے کے باعث ڈی سیٹ کرنیکی تحاریک زیر ضابطہ 44 ایجنڈے پر موجود تھیں تاہم ایوان نے 9 ویں نشست میں ان دونوں جماعتوں کی طرف سے ان تحاریک زیر ضابط 44 کو واپس لینے کی دو علیحدہ علیحدہ تحاریک کو واپس لینے کی تحاریک کی منظوری دی ۔

اجلاس کے دوران تین واک آوٹ مشاہدہ کئے گئے جن پر اجلاس کے مجموعی وقت کا 1گھنٹہ اور 2 منٹ صرف ہوئے ۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز  کے اراکین نے ایجنڈے میں شامل انکے ایجنڈا آئٹمز کے اخراج کیخلاف  اجلاس کی 11 ویں نشست میں 17 منٹ کیلئے واک آوٹ کیا جبکہ دوسرا واک آوٹ قصور میں بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات کیخلاف کیا گیا ۔

اجلاس کی 13 ویں نشست کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی قائد نے ایوان زیریں سے اپنی جماعت کے اراکین کے مستعفی ہونے کا اعلان کیا جبکہ سانحہ قصور کے متاثرین کیساتھ اظہار یکجہتی اور متحدہ کے ورکر کی مبینہ ٹارگٹ کلنگ کیخلاف ایوان سے 27 منٹ تک واک آوٹ کیا ۔

اجلاس کی 14 ویں و آخری نشست میں حزب اختلاف نے ایوان سے وزرا کی غیر حاضری اور سرکاری بینچوں کی اجلاس میں عدم دلچسپی کیخلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے 15 منٹ دورانیئے کا واک آوٹ کیا ۔

(منظور کئے گئے قانونی مسودات ( بلز 

  مختلف نشستوں کے دوران درج ذیل سرکاری مسودات قانون ( بلز ) کی منظوری دی گئی

۔ نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز بل 2015

۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ بل 2015

۔ اسلام آباد ماتحت عدلیہ سروس ٹربیونل بل 2015

۔ سول سرونٹس ( ترمیمی ) بل 2013

۔ کریڈٹ بیورو بل 2015

۔ انتخابی فہرستوں کا ( ترمیمی ) بل 2015

۔ انتخابی حلقوں کی حد بندیوں کا ( ترمیمی) بل 2015

۔ حفاظتی اقدامات کا ( ترمیمی ) بل 2015

۔ کاونٹر ویلنگ ڈیوٹیز بل 2015

۔  اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز بل 2015

۔ نیشنل ٹیرف کمیشن بل 2015

۔ دی سٹیٹ بینک آف پاکستان ( ترمیمی ) بل 2015

 (متعارف کرائے گئے قانونی مسودات ( بلز 

اجلاس کے دوران دو نجی قانونی مسودات سمیت چار قانونی مسودات ایوان میں متعارف کرائے گئے جنہیں مزید غور کیلئے متعلقہ مجالس ہائے قائمہ کے سپرد کر دیا گیا ۔ اسی طرح ایجنڈے پر موجود چار نجی قانونی مسودات سمیت  پانچ  قانونی مسودات  ایوان کی توجہ حاصل نہ کر پائے ۔

(مسترد کئے جانیوالے قانونی مسودات ( بلز 

ایوان نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ( ترمیمی ) بل 2015 اور آئین کی شق 25 اے میں ترمیم کا  آئینی ترمیمی بل 2015 مسترد کر دیئے ۔ علاوہ ازیں انکم ٹیکس ( ترمیمی ) آرڈیننس 2015 بھی ایوان میں پیش کیا گیا ۔

منظور کی گئی قراردادیں

اجلاس میں مجموعی طور پر 9 قراردادیں منظور کی گئیں جن میں پانچ قراردادیں آرڈیننسز کی مدت میں توسیع سے متعلق تھیں ۔ جن آرڈیننسز کی توسیع کیلئے قراردادیں منظور کی گئیں ان میں

۔ حفاظتی اقدامات کا ( ترمیمی ) آرڈیننس 2015

۔ دی کاونٹر ویلنگ ڈیوٹیز آرڈیننس 2015

۔ دی نیشنل ٹیرف کمیشن آرڈیننس 2015

۔ دی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز آرڈیننس 2015

۔ دی پبلیکیشن آف لاز آف پاکستان ( ریگولیشنز ) آرڈیننس 2015 شامل ہیں

ایوان میں منظور کی گئی دیگر قرادادوں کے موضوعات تھے

۔ پارلیمان کی بالادستی کے عزم کا اظہار

۔ قصور میں بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات کی مذمت

۔ بجلی کی چوری پر قابو پانے کیلئے اقدامات

۔ ملک میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاطت کا عزم

ایوان نے ملک میں پانی کی قلت پر قابو پانے کیلئے نئے آبی ذخائر کی تعمیر کی قرارداد پر 71 منٹ تک بحث کی جبکہ نجی اراکین کے تیسرے دن کے ایجنڈے پر موجود دیگر 13 قراردادیں ایوان کی توجہ حاصل نہ کر پائیں

Posted by on August 13, 2015. Filed under قومی اسمبلی. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0. You can leave a response or trackback to this entry