Facebook Facebook Facebook Facebook

Categories

ایوان بالا : 255 ویں اجلاس میں بھرپور قانون سازی

Posted by
Published: November 28, 2016 03:30 pm

اسلام آباد ، 28 نومبر :ایوان بالا کے 255 ویں اجلاس میں بھرپور قانون سازی کی گئی ۔ 18 نومبر سے 25 نومبر تک چھ نشستوں میں منعقدہ اجلاس کے دوران ایوان نے چھ قانونی مسودات اور آٹھ قراردادوں کی منظوری دی جبکہ آٹھ قانونی مسودات ایوان میں متعارف کرائے گئے ۔

255 ویں اجلاس کے دوران مجموعی طور پر 13 تحاریک التوا پیش کی گئیں جن مین سے چیئر نے 09 تحاریک کو خلاف ضابطہ قرار دیکر مسترد کر دیا ، دو تحاریک نپٹا دی گئیں ، ایک تحریک محرک نے واپس لے لی جبکہ ایک تحریک پر اراکین نے بحث کی ۔ علاوہ ازیں اجلاس کے دوران چار تحاریک زیر ضابطہ 18 کو اٹھایا گیا ، مختلف مجالس ہائے قائمہ کی 13 رودادیں ایوان مین پیش کی گئیں ،ایک روداد کو نپٹایا گیا، مختلف امور پر سات توجہ دلاؤ نوٹس اٹھائے گئے ، ایوان کے قواعد و ضوابط ہائے کار 2012 میں ترامیم کی ایک تحریک منظورکی گئی ،سینیٹرز نے عوامی اہمیت کے مختلف امور پر بات کیلئے 32 نکات ہائے اعتراض اٹھائے ، نظام کار پر موجود 165 نشزنذدہ سوالات میں سے 76 سوالات ایوان میں اٹھاتے ہوئے حکومت کو جوابدہ بنایا گیا ، ایک تحریک استحقاق پیش کی گئی جسے متعلقہ مجلس کے سپرد کیا گیا جبکہ ایوان کی آخری نشست میں پاکستان تحریک انصاف اور حزب اختلاف کےکچھ دیگر سینیٹرز نے سات منٹ کیلئے ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا ۔

اجلاس میں سینیٹرزو دیگراہم عہدیداران کی حاضری اور نشستوں کے اوقات ہائے کار سمیت مکمل روداد اہم نکات کی صورت قارئین کے استفادے کیلئے ذیل کی سطورمیں پیش ہے ۔

 حاضری و اوقات کار

اجلاس کی ہر نشست مقررہ وقت سے اوطا ایک منٹ تاخیر کیساتھ شروع ہوئی اور 03 گھنٹے 20 منٹ تک جاری رہی ۔ سینیٹرز (بشمول 02 اقلیتی سینیٹرز)کی فی نشست اوسط حاضری کی شرح نشست کے آغاز پر 18 (17 فیصد ) اور اختتام پر 19 ( 18 فیصد ) مشاہدہ کی گئی ۔

وزیراعظم اجلاس کی کسی نشست میں شریک نہ ہوئے۔ چیئرمین نے تمام نشستوں میں شرکت کی اور اجلاس کے مجموعی وقت کے 85 فیصد وقت تک صدارت کے فرائض نبھائے ، ڈپٹی چیئرمین تین نشستوں میں میں شریک ہوئے تاہم کسی نشست کی صدارت نہ کی جبکہ پریذائیڈنگ افسران کے پینل کے اراکین 12 فیصد وقت تک اجلاس کی صدارت کے فرائض سر انجام دیئے ، اجلاس کا تین فیصد وقت مختلف وقفوں پر صرف ہوا ۔

ایوان بالا کے قائد ایوان تمام چھ نشستوں میں شریک ہوئے اور اجلاس کے مجموعی وقت کا 84 فیصد ایوان میں گزارا جبکہ قائد حازب اختلاف نے بھی تمام نشستوں میں شرکت کی اور 58 فیصد وقت تک ایوان میں موجود پائے گئے ۔ پارلیمانی قائدین میں سے پختون خوا ملی عوامی پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی قائدین نے تمام نشستوں میں شرکت کی ۔ متحدہ قومی موومنٹ ، پاکستان مسلم لیگ ، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل ) کے پارلیمانی قائدین نے پانچ ،پانچ ، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل ) ، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی ) کے پارلیمانی قائدین نے چار ،چار ، نیشنل پارٹی ، پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی قائدین نے دو، دو نشستوں اور جمعیت العلما اسلام (ف) کے پارلیمانی قائد نے ایک نشست میں شرکت کی ۔

منظور کئے گئےقانونی مسودات

  • پاکستان انجینئرنگ کونسل ترمیمی بل 2016
  • ضابطہ دیوانی (ترمیمی) بل 2016
  • مرکزی قانونی افسران (ترمیمی) بل 2016
  • اسلام آباد ہائیکورٹ (ترمیمی) بل 2016
  • فوجداری قوانین ( ترمیمی) بل 2016
  • دی پلانٹ بریڈرز رائٹس بل 2016

منظور شدہ قانونی مسودات کا تعارف و مقاصد

  • پاکستان انجینئرنگ کونسل (ترمیمی) بل 2016 : اس بل کا مقصد پاکستان آرمی کے انجینئرنگ چیف کی پاکستان انجینئرنگ کونسل کی گورننگ باڈی میں شمولیت کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے ۔
  • ضابطہ دیوانی (ترمیمی) بل 2016 :اس بل کے ذریعے گنجائش پیدا کی گئی ہے کہ کسی بھی نوعیت کی تکلیف کا باعث امور اور سرکاری خیراتی اداروں کی صورت میں ایڈووکیٹ جنرل یا دو یا اس زیادہ افراد عدالت کی اجازت کیساتھ عدالتی اعلامیئے اور حکم کیلئے یا  مقدمے کے حالات کے پیش نظر عدالت جو ریلیف مناسب سمجھے کے حصول کیلئے دعویٰ دائر کر سکتے ہیں ۔
  • قانون و انصاف کمیشن نے  اس نوعیت کے مقدمات میں عدالت کی اجازت کیساتھ اور ایڈووکیٹ کی اجازت کے بغیر دائر کرنے کیلئے متذکرہ دفعہ میں ترمیم کیلئے سفارش  کی تھی ۔ مجوزہ قانون سازی کے بروئے کار آنے سے دعووں کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی ۔
  • مرکزی قانونی افسران (ترمیمی) بل 2016 :اس بل کا مقصد اٹارنی جنرل آف پاکستان کی سفارشات کی روشنی میں مرکزی لا افسران آرڈیننس 1970 (7 آف 1970) میں ترمیم کرتے ہوئے سٹینڈنگ کونسل کی آسامی کو اسسٹنٹ اٹارنی جنرل قرار دینا ہے ۔
  • اسلام آباد ہائیکورٹ (ترمیمی) بل 2016 : اس بل کا مقصد وفاقی علاقہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور سول کورٹس  کے دائرہ اختیار سمات کو دیگر صوبوں کی ہائیکورٹوں و سول عدالتوں  کے ہم پلہ  بنانا ہے ۔اس اقدام سے اسلام آباد ہائیکورٹ پر کام کا بوجھ بھی  کم ہوگا۔
  • پلانٹ بریڈرز رائٹس بل 2016 :اس بل کا مقصد پودوں کی نئی اقسام کا فروغ اور نئی اقسام کاشت کرنیوالوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے ۔
  • فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2016: اس بل کا مقصد دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کیلئے سخت اقدامات یقینی بنانا ہے ۔

متعارف قانونی مسودات

  • شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام ٓاباد (ترمیمی) بل 2016
  • معلومات کے حق کا بل 2016
  • کمسنوں کیلئے نظام انصاف ( ترمیمی) بل 2016
  • اسلام آباد دیواروں پر اشتہار بازی کی ممانعت کا بل 2016
  • قومی کمیشن  برائے بین الاقوامی قانون و مواعید بل 2016
  • آئینی ( ترمیمی) بل 23016 برائے ترمیم کئے جانے شق 209
  • فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ و سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیمی) بل 2016

متعارف کرائے گئے قانونی مسودات کا مختصر تعارف

  • فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیمی بل) 2016

یہ قانونی مسودہ 21نومبر 2016کو سینیٹر نزہت صادق نے ایوان بالا (سینیٹ )میں متعارف کرایا ۔ اس  بل کامقصد فیڈرل بورڈ کے 1975کے ایکٹ میں ترمیم کرنا ہے۔ اس ترمیمی بل کے ذریعے فیڈرل بورڈ کے دائرہ اختیار میں اضافہ ہوگا اور چھائونیوں، گیریژنزیا وفاقی  علاقوں سے باہرقائم سرکاری یا نجی تعلیمی ادارے بھی فیڈرل بورڈ سے  الحاق کر سکیں گے۔

  • شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد (ترمیمی)بل 2016

یہ بل 21نومبر 2016کو ایوان بالا (سینیٹ )میں سینیٹر سردار محمد اعظم خان موسٰی خیل نے پیش کیا ۔ بل کا مقصد پمز ہسپتال کو اور یونیورسٹی کو الگ الگ حیثیت عطا کرنا ہے۔ کیونکہ  ہسپتال کی  اپنی حیثیت  یونیورسٹی کی وجہ سے کچھ  مشکل میں ہے ۔ پمز میں کام کرنیوالے  3ہزارسے زائد ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے  اور انکا خیال ہے کہ ہسپتال کو یونیورسٹی بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ملازمین کا سول سرونٹ کا اسٹیٹس خطرے میں پڑ جائے گا جو ان کے مفادات کے  منافی  ہے۔

پمز ہسپتال میں اوسطاسالانہ 13لاکھ 21ہزار 465مریض آتے ہیں اور اس پر حکومت 5ب روپے سالانہ خرچ کرتی ہے ۔ پمز کو یونیورسٹی کا درجہ دینے سے یہ ایک خود مختار کارپوریٹ ادارہ بن جائے گا جس کے عام لوگو ں پر سنجیدہ اثرات مرتب ہونگے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی ایکٹ 2013 کی بہت سی شقیں ہائر ایجوکیشن کمیشن /فیڈرل یونیورسٹی آرڈیننس کے برعکس ہیں۔ اس بل کو متعارف کروانے کا مقصد ان سب پیچیدگیوں کو ختم کرکے اس کو ایچ ای سی /فیڈرل یونیور سٹییز آرڈیننس 2002 کی مطابقت میں لانا ہے۔

  • کم سن /نابالغ نظام ِ انصاف (ترمیمی) بل 2016

یہ بل 21 نومبر2016 کو سینیٹر محمد اعظم خان سواتی نے سینٹ میں متعارف کرایا  جس کا مقصد کم سن/نا بالغ  بچوں کیلئےنظامِ انصاف آرڈیننس 2000میں ترامیم کرنا تھا ۔ بنیادی طور پر بل انٹرنیشنل کنونشن کے Signatory ہونے کی حیثیت سے ایسے قوانین پر زور دیتا ہے جن کے تحت نابالغ افراد کو جرم کی صورت میں مفید شہری بننے کے لیے مواقع فراہم کرنا اور اس کی تربیت کرنا ہے ۔قانون نافذکرنے والے ادارے   نابالغ افراد کو کسی جرم  میں سزا ملنے کے بعد ان کیساتھ بالغوں کی طرح  کاسلوک کرتے ہیں۔ اس بل کے تحت یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ نابالغ افراد کی تفتیش سب انسپکٹر کی سطح  سے کم افسر نہیں کرے گا اور بچیوں کی نگرانی مرد افسر نہیں کرے گا۔ کسی بھی معمولی جرم کی صور ت میں عدالت فریقین کی رضامندی سے تلافی نقصان یا دیگر مناسب فیصلہ  دے سکے گی۔ عدالت جرم کی صورت میں بچوں کو قید کرنے کی بجائے اصلاحی اداروں میں بھیجے گی جہاں سے اس کو ڈسچارج کیا جائے گا اور وہ کسی بھی نا اہلی کے بھی زمرے میں نہیں آئیں گے۔ اگر کوئی بھی شخص  نابالغ فرد کو ذہنی یا جسمانی اذیت  دیکر سزا والے جرم کی طرف راغب کریگا  اس کی سزا 3 سے 5 سال  قید اور جرمانہ ایک لاکھ سے 2 لاکھ روپے تجویز کیا گیا ہے۔

  • دیواروں پر اظہار کا ممانعتی بل اسلام آباد ،2016

اس  بل کو 21 نومبر کو سینیٹ میں سینیٹر محمد اعظم خان سواتی نے متعارف کروایا جس  کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں دیواروں پر اظہار معاملات کی پابندی ہے۔ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد میں وال چاکنگ یا دیواروں پر اظہار معاملات کے خلاف کوئی قانون نہیں ہے۔ اس بل کے تحت حکومت اور میٹروپولیٹن کارپوریشن 30دن کے اندر دیواروں پر لکھائی کو مٹائے گی ۔ اور حکومت بل کے مقاصد کی تکمیل کے لئے قوانین بھی بنائے گی ۔ اس بل میں دیواروں پر کسی صورت میں لگے پوسٹر یا اشتہار پر  ایک سے دوسال تک کی سزا ہوگی اور ایک لاکھ روپے جرمانے یا دونوں سزائیں  ہوں گی ۔

  • قومی کمیشن برائے بین الاقوامی قانون اور مواعید/وابستگی بل 2016

یہ بل 21نومبر کو سینیٹر کریم احمد خواجہ نے سینٹ میں متعارف کرایا جس کے تحت ایک کمیشن بنایا جائے گا۔ بین الاقوامی معاہدوں ، کنونشن پر بحث اور تعاون کے لئے ایک فورم کے طور پر خدمات انجام دے گا ،اور پارلیمنٹ  اور وزیر  ا عظم سے بھی مشاورت کرے گااور ان  سفارشات کو مرتب کریگا۔

کمیشن کے سیکرٹریٹ کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل  کہلائیگا۔ جو کہ وفاقی حکومت کے گریڈ 21کے   رینک  کا  افسرہوگا یاکمیشن کے ملازمین میں سے ترقی پائے گا۔ کمیشن اپنی سرگرمیوں کے بارے میں سالانہ رپورٹ ، خصوصی رپورٹ صرف کرے گا اور حکومت کی منظوری کے بعد قوانین بھی بنائے گا۔

  • آئینی ترمیمی بل 2016

سینیٹر ڈاکٹر ظہیر الدین بابر اعوان نے آئینی ترمیمی بل 2016 (برائےترمیم کئے جانے  آرٹیکل 209) 21 نومبر2016 کو ایوان بالا میں متعارف کروایا ۔ اس  میں آرٹیکل 209 میں ایک اضافی پیرامتعارف کرانے کا کہا گیاہے ۔ جس کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف شکایت کی صورت میں سپریم کورٹ کا سینئر ترین جج کونسل کا سربراہ ہوگا اور اگلے دیگر دو سینئر ججز اس کے ممبر ہونگے ۔ اسی طرح سے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر الزام کی صورت میں ان کا متبادل ہائی کورٹ کاسینئرترین جج ہوگا۔

اس کے مطابق سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کے خلاف شکایت کی صورت میں کونسل شکایت کو نہیں چھپائے  گی اور 45 دن کے اندر اس کا فیصلہ کرے گی ،غلط شکایت کرنے والے کے خلاف کاروائی ہوگی اور کونسل کے آخری فیصلے کو سپریم کورٹ کے فل بنچ کے سامنے رکھا جائے گا جس کا فیصلہ 30دن کے اندر ہوگا ۔

سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کی معطلی یا ہٹانے کی صورت میں وہ کسی پنشن یا دیگر مراعات حاصل کرنے کا مجاز نہیں ہوگا اور نہ ہی  وہ مزید قانونی چارہ  جوئی سے مستثنیٰ ہوگا۔

  • معلومات تک رسائی کا بل 2016

یہ بل 21نومبر 2016 کو سینیٹر کامل علی آغا نے ایوان بالا میں متعارف کروایا ۔ اس بل  کا مقصد قوانین کے اندر رہتے ہوئے معلومات تک جلد اور کم قیمت رسائی ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد آرٹیکل 19-Aکے ذریعے معلومات تک رسائی کا اختیار دیا گیا ہے۔ جس کا مقصد اداروں میں احتساب اور شفافیت کے عمل کو فروغ دینا ہے۔ یہ مجوزہ قانون تمام سرکاری اداروں کے لئے ہوگا جن میں وزارتیں ، ڈویژن  ،متعلقہ محکمے اور ماتحت دفاتر بشمول وفاقی حکومت کے خود مختار ادارے شامل ہوں گے ۔ اس کے دائرہ کار میں پارلیمنٹ ، اس کے بالترتیب ممبران کمیٹی ، گورنمنٹ کے سربراہ عدالتیں ، ٹربیونل ،کمیشن، بورڈ، وفاقی یا میونسپل لوکل اتھارٹی اورپبلک فنڈزحاصل کرنے والی این جی اوز ( غیر سرکاری ادارے ) شامل ہوں گی ۔ ان اداروں کے پرنسپل آفیسر /سیکرٹری یا متعلق سربراہان  ادارے کے تمام ریکارڈ کو منظم رکھیں گے  اور انفارمیشن کمیشن کے معیار کے مطابق اس کو مرتب کر سکیں گے۔ اس بل کی منظوری اور ایکٹ  بننےکےبعد چھ ماہ کے اندر معلومات کے ذرائع (انٹرنیٹ یا دیگر)پر ہر ادارہ اپنے ریکارڈ بشمول فرائض ، اختیارات ، ملازمین کی ڈائریکٹری ، تنخواہ ، دیگر مراعات ، گرانٹس ، لائسنس  اور دیگر ضروری معلومات کو اس پر اپ ڈیٹ رکھے گا  اور مناسب وقت کے اندر اس کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کی کوشش کرے گا۔

مجوزہ قانون کے مطابق  کوئی بھی شخص سرکاری ادارے کو معلومات کےلئے تحریری درخواست فیکس ، ڈاک ، ای میل کی صورت میں دے سکےگا۔ درخواست کی وصولی کے بعد درخواست کنندہ کو ایک رسید  دی جائے گی کہ متعلقہ معلومات اس کو جلد فراہم کر دی جائے گی۔ ادارے کی طرف سے مختص افراد  درخواست کنندہ کو معلومات تک رسائی کے لئے کسی بھی مسئلے کی صورت میں مدد کرے گا۔ درخواستوں کو نمٹانے کے لئے قوانین کے تحت  ایک طریقہ کار اختیار کیا جائیگا۔ اگر درخواست کنندہ تصدیق شدہ معلومات کی کاپی مانگے گا تو اس صورت میں اس سے انفارمیشن کمیشن کے فیس شیڈول کے مطابق فیس لی جائے گی۔

کسی کی ذاتیات کو نقصان پہنچانے والی یا معاشی ، تجارتی سرگرمیوں  ، قومی سلامتی کے منافی، جانی و جسمانی نقصان ، قانونی چارہ جوئی کو متاثر یا پبلک اتھارٹیز کی سرگرمیوں کو متاثر کرنے والی معلومات فراہم نہیں کی جائیں گی۔

کوئی بھی شکایت کنند ہ درخواست کو نمٹانے ، یا ڈیلنگ  کے حوالے سے مطمئن نہ ہو تو وہ 30دن کے اندر متعلقہ ادارے کے پرنسپل آفیسر کو شکایت کرے گا جس کا فیصلہ 10 رو ز کے اندر کرنا ہوگا۔

اس بل کی ایکٹ کی صورت منظوری کے بعد حکومت پاکستان انفارمیشن کمیشن 120 دن کے اندر قائم کرے گی جو قانونی لحاظ سے خودمختار  ادارہ ہوگا۔ اس کمیشن کے تین  کمشنرزکو حکومت مقرر کرے گی  جس میں ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا جج بننے کے اہل یا 21 یا 22گریڈ میں ریٹائرڈ سول سرونٹ ، ایک ایک سول سوسائٹی بشمول میڈیا کا نمائندہ جسے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائےاطلاعات نامزد  کریگی ۔ اس کمیشن کی سربراہی چیف انفارمیشن کمشنر کرے گا جس کا چناؤ کمشنر ز کرینگے۔ چیف انفارمیشن  کمشنر  کی مدت تعیناتی 4سال ہوگی اور عمر 60سال کے اندر ہوگی ۔ یہ کمیشن اپیل کی صورت میں انکوائری کرنے کا مجاز ہوگا اور مختلف معاملات میں اس کی حیثیت سول کورٹ کی سی  ہوگی ۔

انفارمیشن کمیشن گورنمنٹ کو اپنی بجٹ  تجویز دے گا اور چیف انفارمیشن  کمیشن کی تنخواہ اور مراعات ہائی کورٹ کے جج کے برابر ہونگی ۔ یہ بل فریڈم آف انفامیشن  آرڈیننس 2000کو منسوخ  کرے گا۔

موخر قانونی مسودات

  • انسانی اعضا و بافتوں کی پیوندکاری (ترمیمی) 2016

منظور کی گئی قراردادوں کے موضوعات

  • سابق سینیٹر جہانگیر بدر چیئرمین اور 31 دیگر سینیٹرز نے مرحوم جہانگیر بدر کی خدمات پر 28 منٹ اظہار خیال کیا ۔
  • سابق سینیٹرحاجی محمد عدیل کی وفات  پر اظہار تعزیت کیا گیا ۔چیئرمین اور 20 دیگر سینیٹرز نے مرحوم کی خدمات  پر 128 منٹ اظہار خیال کیا
  • اسلامی نظریاتی کونسل میں خواتین کی نمائندگی
  • اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں پہلی سے دسویں تک تعلیمی نصاب میں ماحولیات کے مضمون کی شمولیت
  • بے نامی غیر منقولہ و منقولہ جائیداد اور کمپنیوں کا سراغ لگانے کیلئے قومی احتساب قوانین میں تبدیلیاں
  • بلوچستان کے کاشتکاروں کے ذمہ واجب الادا زرعی قرضوں کی معافی
  • مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کی مذمت کی اور اقوام متحدہ اور اسلامی کانفرنس تنظیم سے نوٹس لینے کا مطالبہ
  • سینیٹرز کی تنخواہیں بڑھانے پر وزیرخزانہ سے اظہار تشکر

نپٹائی گئی قراردادیں

  • وزیر خزانہ کی توصیف کیلئے پیش ایک قرارداد محرک کی عدم موجودگی کے باعث نپٹا دی گئی ۔

پیش کی گئی رپورٹوں کے موضوعات

  • کارپوریٹ ری ہیبلیٹیشن بل 2015 پر مجلس قائمہ کی رپورٹ
  • پلانٹ بریڈرز رائٹ بل 2016  پر مجلس قائمہ کی رپورٹ
  • پاک امریکہ سیکیورٹی تعلقات بالخصوص ملا اختر منصور پر ڈرون حملے کے بعد کی صورتحال پر رپورٹ
  • فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی جس نے بھارہ کہو اسلام آباد میں ہاؤسنگ سکیم کیلئے زمین کی  منظوری اورخریداری کی کہ اراکین کی تعداد سے متعلق ایک نشانذدہ سوال پر رپورٹ
  • وزیراعظم کے مشیر خارجہ نے ابھرتی ہوئی علاقائی حقیقتوں کے تناظر میں پالیسی گائیڈ لائنز  سے متعلق  ایوان کی مکمل مجلس کی رپورٹ پر عملدر آمد
  • لیگل پریکٹشنرز اینڈ بار کونسلز(ترمیمی) بل 2016 رپورٹ
  • ملک کی معاشی صورتحال پر مرکزی بینک کے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رپورٹ برائے سال 2015۔16 مع شماریاتی ضمیمہ
  • وزارت اطلاعات و نشریات کے افسران کے زیر استعمال سرکاری گاڑیاں
  • قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کی 1400 ایکڑ زمین کوسی ڈی اے کی طرف سے رہائشی و تجارتی پلاٹوں میں تبدیل کرنیکی تجویزسے متعلق مجلس کی دسویں  فالو اپ رپورٹ
  • کمپنیز ( قانونی مشیروں کے تقرر ) (ترمیمی) بل 2016 رپورٹ
  • 10 نومبر 2015 کو مجلس کے سپرد ایک معاملے جس میں بلڈنگ کوڈ خاص طور پر زلزلہ کے پس منظر میں تعمیراتی کیلئے متعارف دفعات جن میں تعمیراتی ضابطے کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو سزائیں وغیرہ دینے کے طریق کار کا معاملہ اٹھایا گیا تھا پر رپورٹ
  • جنوبی وزیرستان میں صحت اور تعلیم کی سہولتوں جنہیں فاٹا اور اے ڈی پی کی امبریلا سکیموں سے حذف کیا گیا سے متعلق رپورٹ

واپس لی اورو موخر  کی گئی تحاریک

  • حکومت کی نجکاری پالیسی پر نجکاری کمیشن آرڈیننس کی دفعہ 16 کی ذیلی شق 2 سے متعلق پیش کی گئی ایک تحریک کو محرک نے واپس لے لیا ۔
  • ایوان بالا کے قواعد و ضوابط ہائے کار 2012 کے ضابطہ 182 میں مجوزہ ترمیم کو چیئرمین  کے عدم اتفاق کے باعث موخر کر دیا گیا ۔ چیئر نے اس معاملے پر بات چیت کیلئے محرک کو چیمبر میں ملنے کی  ہدائت کی ۔

منظور کی گئی تحاریک

  • وقفہ سوالات موخر کرنےکی تحریک
  • مختلف مجالس ہائے قائمہ کے پاس موجود معاملات پر رپورٹس پیش کرنیکی مدت میں مزید توسیع کیلئے 19 تحاریک زیر ضابطہ 194(1)

تحاریک زیر ضابطہ 218

  • اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر نظر ثانی کی اہمیت
  • حکومت کی بھرتی پالیسی
  • مردم شماری میں تاخیرسے متعلق حکومتی موقف
  • فاٹا میں مقامی طور پر بے گھر افراد کی بحالی

توجہ دلاؤ نوٹس

  • آئینی اداروں کے رجسٹرڈ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو سیکٹر ایف چودہ اور ایف پندرہ میں کیٹگریز 1 ، 3 اور 5 کے رہائشی پلاٹوں کے آفر لیٹرز میں بے ضابطگیاں
  • گزشتہ ایک سال کے دوران پمز ہسپتال میں ہیپا ٹائٹس سی کے مریضوں کے تشخیصی ٹیسٹ
  • لانڈھی ریلوے سٹیشن پر ٹرین حادثہ
  • تعلیمی اداروں کے ارد گرد منشیات کی فروخت
  • پاور سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے
  • پاک ترک سکولوں کے ترک اساتذہ  اور عملے  کے ویزوں کی منسوخی
  • چشمہ ژوب ٹرانسمشن لائن منصوبے کی منظوری کے باوجود منصوبے پر کام شروع نہ ہونا

سوالات

  • نظام ہائے کار پر موجود 165 نشانذدہ سوالات میں سے 76 سوالات کے جوابات دیئے گئے ۔

عوامی اہمیت کے نکات

  • عوامی اہمیت کے 32نکات پر 76 منٹ اظہار خیال کیا گیا

واک آؤٹ

  • وزیر مملکت داخلہ کی طرف سے پاک ترک سکولوں کے اساتذہ اور عملے کے ویزے منسوخ کرنے سے متعلق سوال کا اطمینان بخش جواب نہ ملنے پر حزب اختلاف کے چند سینیٹرز نے سات منٹ کیلئے ایوان سے واک آؤٹ کیا

انسانی حقوق اور ایوان بالا

ایوان بالا کے 255 ویں اجلاس میں مختلف پارلیمانی ذرائع کو اختیار کرتے ہوئے سینیٹرز نے انسانی حقوق کے متعدد مسائل بھی اجاگر کئے ۔معلومات کے حصول کے عوامی حق اور شفافیت واحتساب کے عمل کو فروغ دینے کیلئے معلومات کے حق کا قانون متعارف کرایا گیا۔

خواجہ سراؤں کے حقوق خاص طور پر انکے تحفظ ، تعلیم اور بہتر پرورش سے متعلق معاملے کو عوامی اہمیت کے نکتے کے طور پر پیش کیا گیا ۔ چیئر نے اس معاملے کو پسماندہ طبقات پر قائم مجلس ہائے قائمہ کے سپرد کرتے ہوئے اس پر دو ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنیکی ہدائت کی ۔

لاڑکانہ کے ایک تعلیمی ادارے مین طالبعلم پر مبینہ تشدد اور دو طالبعلموں کی خود کشی کے معاملے پر چیئر کی رولنگ چاہی گئی ،سینیٹر نے اس معاملے کو عوامی اہمیت کے نکتے کے طور پر اٹھایا ۔ چیئر نے پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی قائد سینیٹر تاج حیدر کو ہدائت کی کہ اس معاملے کو وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ اٹھایا جائے اور قرار دیا کہ وہ خود بھی اس مسلے پر وزیراعلیٰ سے بات کرینگے ۔

ایوان بالا کے اس اجلاس کی مختلف نشستوں مین اٹھائے گئے تین نشانذدہ سوالات  کے ذریعے گزشتہ سال کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بڑے واقعات کی تفصیلات  اور انکی روک تھام کے اقدامات سے متعلق بھی دریافت کیا گیا ۔  سینیٹرز نے گزشتہ دو سال کے دوران حکومت کی طرف سے اقلیتوں کے تحفظ اور خواتین کےتشخص کو بہتر بنانے کے  حوالے سے بھی سوالات اٹھائے اور کئے گئے حکومتی اقدامات کی تفصیل طلب کی ۔

وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ نے ایوان کی  ہول کمیٹی کی سفارشات پر عمل در آمد  سے متعلق پالیسی بیان دیا ۔ مشیر خارجہ نے ایوان کو بتایا کہ اسلامی کانفرنس تنظیم  کے آزادانہ انسانی حقوق کمیشن  نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا جائزہ لینے کیلئے بھارتی حکومت سے کمیشن کورسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

Posted by on November 28, 2016. Filed under سینیٹ. You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0. Both comments and pings are currently closed.